Writer, Scholar, Educationist

Home/شعورانسانی کے تشکیلی اجزاء فکر اقبال کی روشنی میں

شعورانسانی کے تشکیلی اجزاء فکر اقبال کی روشنی میں

شعورانسانی کے اجزائے تشکیلی

Human Nature/انسانی فطرت و شخصیت

Article

شعور ِانسانی کے اجزائےتشکیلی
(اقبالؒ کے قرآنی افکار کی روشنی میں)
ڈاکٹرعلی وقارقادری
Abstract:
Mohammad Iqbal (1877-1938), a descendant of a Kashmiri Brahmin family that had embraced Islam in the seventeenth century, was born and settled in Sialkot. After a traditional education in Arabic, Persian, and Urdu, he was exposed to a liberal education that defined the contours of his thought and his poetry during the entire period of his life. Beginning his educational career at the Scottish Mission School, he went on to acquire his M. A. in Philosophy, before joining Trinity College, and later earning the degree of Bar-at-Law. He furthered his education by getting the degree of doctorate from Germany on The Development of Metaphysics in Persia. He worked in different capacities at different points of time; he taught philosophy, practiced law, got involved in politics, and also attended the second Round Table Conference. Even while he favored the idea of the creation of Pakistan and is venerated there as the national poet, he wrote the famous patriotic song that celebrates the greatness of India. King George V decorated him with knighthood and he was called Sir Mohammad Iqbal thereafter.
He presented a number of new ideas that with the passage of time transforms into national and international Muslim philosophical ideas. One of these ideas is “Concept of Khudi”. This article contains ingredients for formation of “Khudi”, role of “Khudi” in formation of human personality as a whole. This paper also express that “Khudi” is basically a form of “Human Consciousness”, which factor form it, which element affect its working , how it can be elevated and how I it could be controlled ? This is a mere intellectual procedure, ones you go through and accomplish it; you would get introduced with the state of “Human Consciousness” or “Khudi”.
اس ضمن میں پہلا قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ شعوری عناصر کی تنظیم کو"تشکیل"سے تعبیر کیا جا رہا ہے نہ کہ ”ترکیب“ سے۔ یہ مسئلہ جہاں ایک سوال ہے وہیں ایک جواب بھی ہے ۔ وہ یہ کہ شعور ِانسانی شئے مجرد اور وجود نظری ہے نہ کہ مادی۔ دماغ کی ظاہر ی ساخت کو شعور سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ،مقام ِشعور تو نہاں خانہء دماغ یا اعضائے دماغ کے مابین قوت اتصال کے اندر ایک غیر معمولی استعداد ہے، جو ابتداً ناقص اور کمزور جبکہ مشق و ممارست کے بعد ارتقائی مراحل سے گزرتی ہوئی ایک قوت کی حیثیت بھی اختیار کر لیتی ہے اور پھر نہ صرف نظام اتصال، بلکہ دماغ کے تمام وظائف پر اس کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔علامہ اقبالؒ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے اظہار تاسف کرتے ہیں کہ یہ پوری انسانی شخصیت کا مرکزہ(Center of Gravity) ہے مگر اسلامی تاریخ میں اس طرف کبھی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ علامہ کی جابجا تحریروں سے انسانی شعور کے جو اجزائ ملتے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
۱۔انفرادیت
۲۔خود انحصاری
۳۔کوشش کے بغیر کچھ نہ ملنے کا تعین
۴۔برگزیدہ ہستی
۵۔خودی(انا)
۶۔جبروقدرکا تصور
۷۔حیات اور الموت کا تصور
۸۔آزاد مگر ذمہ دار شخصیات (امین ہستی)
مذکورہ عناصر جو علامہ نے بیان کئے ہیں، ان کے نزدیک درج ذیل آیات سے ماخوذ ہیں۔
ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَیْہِ وَہَدٰیo
” پھر ان کے رب نے انہیں (اپنی قربت و نبوت کے لیے) چن لیا اور ان پر (عفو و رحمت کی خاص) توجہ فرمائی اور منزلِ مقصود کی راہ دکھا دی۔“
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃًط قَالُوٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآئَج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَط قَالَ اِنِّیٓ اَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ o
” اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالاں کہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“
وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰـکُمْط
” اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔“
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًاo
” بے شک ہم نے (اِطاعت کی) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس (بوجھ) کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈرگئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ (اپنی جان پر) بڑی زیادتی کرنے والا (ادائیگیِ امانت میں کوتاہی کے انجام سے) بڑا بے خبر و نادان ہے۔“
ان آیات کے انتخاب کے پیچھے غالباً علامہ کے خاص تصورات کار فرما تھے جو ان آیات کے مزاج سے واضح ہیں۔ اگر ان آیات کے مرکزی نقطہ کی بات کی جائے تو وہ ایک ہی ہے مگر ہر دوسری آیت پہلی آیت کے ارتقاء و تدریجی ارتفاع کا بیان ہے۔ ان آیات میں سے ہر ایک سے حضرت علامہ ؒ نے کچھ اجزائے شعور مستنبط کئے مگر تیسری آیت میں اجزاء کا اجمال بیان ہورہا ہے۔ یعنی شعور ہی وہ نعمت ہوئی جس کی بنیاد پر رفع درجات بھی حاصل ہوتا ہے ،خلافت ِارضیٰ کی اہلیت بھی اور یہی شعور وہ شئے ہے جو اللہ نے بالخصوص عطا فرمائی ہے، ”فی مااتکم“ سے علامہ کی اغلباًیہی مراد ہے۔ آیات کےمزاج اور نوعیت کی بات کی جائے تو جابجا دومزید اجزاء بھی مستنبط ہوتے ہیں جو حضرت علامہ نے نہیں لئے، ان کے بغیر شعور کا کامل تصورِ خیر و شر کھل کر سامنے نہیں آتا۔ وہ دو اجزاء ہیں" نسیان اور مادہ ء سرکشی ، جو دوسری اور چوتھی آیت سے واضح اور عیاں ہیں۔ اب کل اجزا جن سے انسانی شعور تشکیل پاتا ہے دس ہوئے۔
۱۔انفرادیت ۲۔خود انحصاری ۳۔کوشش کے بغیر کچھ نہ ملنے کا تعین
۴۔برگزیدہ ہستی ۵۔خودی(انا) ۶۔خبروقدرکا تصور
۷۔حیات بعدالموت کا تصور ۸۔آزاد مگر ذمہ دار شخصیت ۹۔نسیان
۱۰۔سرکشی
انسانی شخصیت کی تین فیصلہ ساز قوتیں:
یہ دس اجزاء خاص ترکیب پر اور خاص طریقے اس ملتے ہیں اور شعور تشکیل پاتا ہے۔ شعور کے ُکل میں یہ اس طرح خلط ملط ہوتے ہیں کہ ان میں سے ہر جزو کی با لقوہ استعداد شعور کے لازمہ کے طور پر وجود رہتی ہے مگر کسی جزو کا الگ تھلگ اور انفرادی وجود قائم نہیں رہتا۔شعور کا اس طور تشکیل پانا من حیثیت الکل ودیعت شدہ استعدادِ نفسی و قلبی اور عناصر اربعہ کی خاص ترکیب کے مطابق ہوتا ہے۔ عناصر اربعہ کی ترکیب مزاج کے اختلافات متعین کرتی ہے جبکہ شعوری سطح کے اختلافات یا ارتفاعات بھی اسی کی مطابقت سے تر تیب پاتے ہیں۔ اصولی طور پر یوں سمجھ لینا چاہیے کہ عناصر اربعہ(آگ،پانی، مٹی، ہوا) جن سے انسانی جسم تشکیل پاتا ہے، شعور جو اجزائے عشرہ (مذکورہ دس اجزاء) سے تشکیل پاتی ہے اور روح جو اجزائے ثلاثہ(ان اجزائے ثلاثہ کی تفصیل شاہ ولی اللہؒ نے "الطاف القدس فی معرفۃ النفس" کے پہلے باب میں بیان کی ہے، جس کے بیان کا یہاں موقع نہیں)سے تشکیل پاتی ہے، انسان کی شخصیت کے جملہ میلانات اوررجحانات کو متعین کرنے میں فیصلہ ساز قوتیں ہیں۔ گویا انہی تین کی حقیقت کے پردہ میں تمام حقائق نفسی، روحی ،شعوری اور عقلی موجود ہیں۔سردست شعور کے اجزائے تشکیلی ہی زیر بحث رہیں گے۔
یہ تمام اجزاء مل کر جب ُکل کی شکل اختیار کرتے ہیں تو آفاقی قانون حرکت کے تحت یہ ُکل حرکت کرتا ہے اور مقاصد کے حصول کے لئے سرگرم ہوتا ہے، کیونکہ یہی حرکت اور مقاصد کا حصول، مسائل کی تفہیم و تمیز ہی اس کی وجہ تشکیل بنتی ہے۔ یہ ُکل ایک شعوری قوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور شخصیت کی ساخت پر داخت کی درستی اور افکار و نظریات کی نوک پلک سنوارنے میں فیصلہ ساز حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ تشکیل شدہ یہی شعور شخصیتیں ترتیب دیتا ہے، مزاج متعین کرتا ہے، میلانات طے کرتا ہے، رجحانات تخلیق کرتا ہے۔ طبقات العباد کی اصولی تقسیم یہاں سے ہونا قرار پاتی ہے۔
یہی شعور جب تمام مدارج و منازل طے کرکے مصفٰی، منزہ اور منرکیٰ ہو جائے تو علامہ کی خودی کی تشکیل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس کی انتہائی صورت "خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"کی صورت میں متشکل ہوتی ہے۔
٭شعوری ُکل کا ہر جز کم یا زیادہ اپنا اثر رکھتا ہے اور آخری دو اجزاء (نسیان اور سرکشی) پہلے آٹھوں پر مختلف انداز اور کیفیات میں اثر انداز ہوتے ہیں۔
نسیان اور سرکشی کی دیگر اجزائے شعور پر اثرا ندازی:
٭نسیان جب انفرادیت پر اثر انداز ہوتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ اگر مثبت جانب اثر انداز ہو تو انفرادیت کی شعوری صفت پر نسیان کی صفت حاوی ہو جاتی ہے اور نتیجتاً شخصیت میں عاجزی پیدا ہوتی ہے جو مزاج اور اخلاق سے جھلکتی ہے۔ اگر یہی نسیان کی قوت منفی جانب اثر انداز ہو تو انسان کا ذہن انفرادیت کے باب میں حد سے تجاوز کرتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ خود پسند اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے، یہ افعال اس کے اخلاق و کردار سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی صفت انفرادیت پر جب سرکشی کا مادہ مثبت جانب اثر انداز ہوتو انفرادیت اس حد تک معدوم ہوجاتی ہے کہ انسان و جدوجذب وجنوں تک پہنچ جاتا ہے، یہ حال ہر ایک کا مختلف ہوتا ہے جس میں باقی اجزاء کا کردار اس کی کیفیت کو متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انفرادیت کے مادہ پر جب سرکشی منفی جانب اثر انداز ہوتی ہے تو نتیجتاً انسان متکبربن جاتا ہے۔ اس کی پوری شخصیت اس کے ذات اور" میں" کے گردگھومتی ہے۔ مذکورہ آیات میں سے آخری آیت میں اسی نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے۔ انفرادیت کے باب میں شخصیات کے تشکیل پانے کا اصل الاصل یہ ہے۔
٭پھر نسیان اور سرکشی ”خودانحصاری “پر خاص انداز سے اثر ڈالتے ہیں۔ نسیان ”خود انحصاری“ کی بالقوہ صلاحیت جو ودیعت شدہ ہے،پر مثبت جانب یہ اثر ڈالتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ خود انحصاری کا درس دیتا ہے۔بعض ایسے معاملات جن میں انسان شرعی اجازات کے مطابق دوسروں سے مدد لے سکتا ہے، اس سے بھی احتزاز کرتا ہے، نسیان کا منفی جانب عمل یہ ہوتا ہے شخصیت میں خود انحصاری کا تصور ضرورت سے زیادہ کمزور ہو جاتا ہے اور نتیجہ پہلے کے برعکس آتا۔ اب انسان بہت سے ایسے معاملات جن دوسروں سے مدد لینا خلاف اولیٰ یا مکروہ تنز یہی کے درجہ میں آتا ہے اس سے بھی احتزاز نہیں کرتا۔ پھر مادہ خود انحصاری پر" سرکشی" حملہ آور ہوتی ہے۔ سرکشی کے مزاج میں شدت نسیان کی نسبت کئی گناہ ہے۔لہٰذا اس کا اثر بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔ مثبت جانب سرکشی "خود انحصاری" پر یہ عمل کرتی ہے کہ اس کو بلا کا متکبر بنا دیتی ہے، وہ ہر چیز کو اپنی محنت کا صلہ سمجھتا ہے اور توکل، دعا کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ حقیقی طور پر ان کی مؤثریت کا منکر ہو چکا ہوتا ہے۔ ہر کامیابی اسے اپنی صلاحیتوں کا صلہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ قسم فکری الحاد کی طرف بھی بڑھ سکتی ہے۔ ایسے طبقا ت کی نظر اسباب پر خوب ہوتی ہے لیکن مسبب کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔
خود انحصاری پر سرکشی جب منفی سمت میں عمل کرتی ہے تو اس سے بھی تباہ کن نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ منفی جانب اس کا عمل یہ ہوتا ہے کہ انسان کی غیرت مر جاتی ہے اور اس کی کل متا ع دوسروں پر انحصار کرنا ہوتی ہے۔ یہ چیز ایسی شخصیت تشکیل دیتی ہے جو ہر وقت، ہر معاملہ میں دوسروں کے دست نگر ہوتے ہیں اور ہر وقت بخشش کے منتظر ہوتے ہیں کہ کہیں سے کچھ مل جائے ۔خدانخواستہ یہ نفسیات اگر پختہ ہو جائے اور اس پربر وقت قابو نہ پایا جائے تو انسان اپنی غیرت دوسروں کے ہاں رکھوادیتا ہے۔ وہ کسی کے سامنے کھری بات کرنے کے قابل نہیں رہتا، اس کے اندر سے غیر جانبداری ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے انسانوں کا اوڑھنا بچھونا مال ہوتا ہے۔ یہ ہر وقت رونے دھونے اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کے درپے ہوتے ہیں تاکہ بخشش کے دروازے کھلیں اور لو گ ان کو غریب ، مسکین اور تنگ دست سمجھ کر ان سے ہمدردی کریں۔ علامہ نے اس شعر میں انہی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
آزاد کی دولت دل ِروشن، نفسِ گرم محکوم کا سرمایہ، فقط دیدۂ نم ناک
٭اس کے بعد جزائے شعور میں سے تیسرا جزو"کوشش کے بغیر کچھ نہ ملنے کا تصو ر"متحرک ہوتا ہے۔
اس کو شعور انسانی میں قانون ِحرکت کے ضامن کہنے میں ہم حق بجانب ہونگے۔ اس کو دوران گفتگو تحدید ِلفظی کے ساتھ ”شعور کے حرکی جزو“ سے تعبیر کیا جائے گا۔ احساس زیان جو حیات ِنفسی کا ثمرآور عقیدہ ہے، اسی شعور کے حرکی جزو کی مرہون منت ہے۔
اس کا کام انسان کو مسلسل آگے بڑھنے کے لئے مستعد رکھنا ہے۔ اعمالِ نفسی کی فعالیت، جس پر اعمال کی کارکردگی منحصر ہے، اسی جزو کا کام ہے۔ اگر اس کو کاملاً حرکت میں نہ لایا جارہا ہو تو یہ ہیجانی نفسی کیفیت، جس کو احساس ِزیاں سے تعبیر کیاجا سکتاہے، پیدا کر دیتا ہے۔ زیاں کا یہ احساس جب دوسرے اجزائے شعور کو منتقل ہوتا ہے تو ان میں ایک غیر معمولی ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ یہ اس وقت تک کارآمد ہوتاہے جب تک اس کی طرف سے وصول ہونے والے سگنل پر پورا شعوری نظام اور بعدازاں پورا اعصابی نظام متحرک ہوجائے۔ اگر اس کی بار بار حرکت کو دیگر اجزائے شعور واعصاب قبول کرکے مناسب رد عمل نہ دیں تو اگلی بار اس ارتعاش کی کیفیت(Tendeny)میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے اور مسلسل غفلت بالآخر اس صلاحیت کو اتنا کمزور کر دیتی ہے کہ اس کا عدم اور وجود برابر ہو جاتا ہے۔ اس قوت پر بھی نسیان اور سرکشی اثر انداز ہوتے ہیں۔ نسیان قوت ِحرکی پر مثبت جانب عمل کرتاہے تو انسان کی شخصیت ذمہ دار قرار پائی ہے۔ اس کی توجہ حرکت اور مسلسل حرکت پر ہوتی ہے۔ جبر مسلسل اس کی شخصیت کا جزولانیفک بن جاتا ہے۔ اقبالؒ نے اس جہد مسلسل کو ذوقِ پرواز بھی کہا اور اسی کو زندگی کی اصل حقیقت قرار دیا۔ اور اس کے برعکس سکوت و غفلت کو فریب نظر قرار دیا۔فرماتے ہیں:
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات تڑپتا ہے ہر زرہ ءکائنات
ٹھہرتا نہیں کاروان ِوجود کہ ہر لخط ہے تازہ شانِ وجود
سمجھتا ہے تو، راز ہے زندگی! فقط ذوق ِ پرواز ہے زندگی
اسی تصور کو حضرت علامہ نے دوسری جگہ یوں بیان کیا
مشرق سے ہو بیزار نہ مغر ب سے حذر کر فطرت کا اشارہ ہے کہ ہرشب کو سحرکر
نسیان شعور کے حرکی جزو پر منفی جانب عمل کرتا ہے تو نتیجتاً شخصیت پر گئی حجابات آجاتے ہیں۔ انسانیت کا جو ہر اصلی غفلت میں ڈوب جاتا ہے۔ انسان کچھ کئے بغیر معجزہ کی امید میں عمریں گنوا دیتاہے۔ اگر کبھی قوت حرکی احساس زیاں دلائے بھی تو غفلت اور حجابات عمل اور جدوجہد کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ غفلت کے بعد پھر غفلت اور اس کے بعد پھر غفلت کی صورت میں نکلتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ان حجابات پر بات کی ہے جو فطرت پر آجاتے ہیں۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک
”اس وجدانی کیفیت اور فطرت انسانی کے ظہور میں تین چیزیں مانع ہوتی ہیں جن کو حجب (جمع حجات) سے تعبیر کرتے ہیں۔
پہلا: حجاب طبیعت کا ہے۔
دوسرا: حجاب رسم کا ہے۔
تیسرا: حجاب جہل (عدم معرفت یا سومعرفت) کا ہے۔“
حضرت شاہ ولی اللہؒ حجاب طبیعت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان بقائے جان اور حفظِ نفس کے ساتھ ساتھ پیدائش و افزائش نسل اور حفظ نوع کے لئے بالطبع کھانے پینے اور صنفی تعلق وغیرہ پید اکرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں عموماً نفس انسانی انہی خواہشات کے تابع ہوکر رہتا ہے اور ان اعمال کی محبت اپنی سرشت میں مضمرو پوشیدہ رکھ کر اپنی اصل خصوصی فطرت جس میں لاھوت کی طرف توجہ اہم عنصر ہے ،کو بالکل بھول جاتا ہے۔ ( ان خواہشات کی تکمیل کے لئے وہ حلال و حرام کی احتیاطوں سے) قطع نظر کرکے اپنی خواہشات نفسانی اور مقتضیاتِ طبیعت کو پورا کرکے رہتا ہے۔ ایسے شخص کے حق میں یہ کہا جائے گا کہ معرفت ِخداوندی اور فطرت ِانسانی کی تحصیل و تکمیل کی راہ میں حجاب ِطبیعت مانع اور سنگ راہ ثابت ہوا۔تم جانتے ہو کہ طبیعت ( کے عنصر) کو دل و دماغ پر حیرت انگیز تسلط حاصل ہے اور جب بھی خواہشاتِ نفسانی اور متقضیات ِطبیعت غالب آجاتے ہیں تو دل و دماغ شیوہ تسلیم و رضا اختیار کر لیتے ہیں“۔
دوسرا حجاب رسم و رواج کا ہے، شاہ صاحب ؒکے نزدیک رسم و رواج اصلاً بُرے نہیں لیکن اگر یہ اسراف و تبذیر اور فضولیات کی قبیل سےہوں تو شخصیات کے جملہ پہلوؤں ،خاص طور پر حیات ِشعوری پر لازماً اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ تخلیقی قوت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں اور تکرار بغیر تخلیق پر منتج ہوتے ہیں۔ بے جارسوم و رواج کی غیر معمولی پابندی کلیات شعوری کو متاثر کرتی ہے۔ تیسرا حجاب جہل کا ہے جو حقیقت مطلقہ (ذاتِ باری تعالیٰ)کی نسبت ہے۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک معاشروں میں سؤمعرفت ِخداوندی کی کئی شکلیں پائی جاتی ہیں جن کا عملی اظہار کفروشرک کے مظاہر کی صورت میں ہوتا ہے۔
شعور کے اس حرکی جزو پر سرکشی بھی عمل کرتی ہے، یہ مثبت سمت میں عمل کرے تو کوشش اور جدوجہد کی راہ میں انسان بعض اوقات حدِ اعتدال سے گزر کر خبطی بن جاتا ہے اور جسمانی استعدادوں کی حدود وقیود کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے عجلت پسند واقع ہوتا ہے، جس کا نتیجہ نقصان کی صورت ہی نکلتا ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ نے عبادات ، معاملات اور دیگر امور میں جو اعتدال کا حکم دیا وہ اسی قبیل سے ہے۔ آپﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم زیر بحث موضوع کے حوالے سے معنیٰ خیز ہے۔ آپﷺ کسی کو کسی بھی معاملے میں غیر ضروری شدت اختیار کرتے دیکھتے تو فرماتے کہ تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہارے اہل و عیال کا بھی تم پربھی حق ہے۔ ان احکامات کے پیچھے انہی نفسی کیفیات کا رد اور ان کو حد ِاعتدال میں لانا مقصود تھا۔ آپﷺکی بارگاہ میں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے راتوں کے طویل اور مسلسل قیام کی شکایت کی تو حضورﷺنے انہیں منع فرمایا اور اعتدال میں رہ کر عبادت کرنے کا حکم دیا۔ اس صحابی کی کیفیت ،حیاتِ شعوری کے زیر بحث باب سے متعلق معلوم ہوتی ہے اور اس کے نقصان دہ ہونے کا یہی ثبوت کافی ہے کہ تاجدار کائنات ﷺنےاس سے منع فرمایا اور اس کو ناپسند فرمایا ، مستزادیہ کہ اس عمل کے مد مقابل اپنے مبارک عمل کو پیش فرمایا جو اس سے یکسر مختلف تھا۔یوں آپﷺ نے نفسیاتی،شعوری نقصان کے ساتھ ساتھ شرعی نقصان کی وضاحت بھی فرما دی۔
سرکشی جب شعور کے حرکی جزو پر منفی جانب عمل کرتی ہے تو ان کو حددرجے کا کاہل،سست، نکما اور بہانے باز بنا دیتی ہے۔ یہ شخص معجزے کےانتظار میں بھی نہیں رہتا بلکہ اپنی حالت پر راضی ہے۔ یہ راضی ہونا رضا و تسلیم کے قبیل سے نہیں بلکہ فکری و ذہنی پس ماندگی کے قبیل سے ہے۔ ایسے افراد معاشروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ یہ نہ کبھی جہد مسلسل کا حصہ بنتے ہیں نہ کسی معاملے میں کو پختہ رائے رکھتے ہیں۔ انہی کے لئے شاید یہ معقولہ وضع کیا گیا ہے کہ "العوام کلانعام"۔
٭چوتھے نمبرپر شعور کا جو جزوآتا ہے وہ نہایت اہم ہے یعنی ”برگزیدہ ہستی کا تصور“۔
یہ شعور ِانسانی میں ایسا داعیہ بیدار کرتا ہے جس سے انسان میں خود احترامی (Self Respect)کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یہ اہم ترین جزو ہے کہ اس برگزیدگی کی حفاظت اور بقاء کے لئے انسان بہت سارے خطرات مول لینے، بہت سے ناممکنات کو ممکن بنانے کے لئے آمادہ رہتا ہے۔ بہت سے اخلاقی صالحات جو انسان کے عمل سے ظہور پذیر ہوتے ہیں اسی داعیہ کا نتیجہ ہیں۔ یہ خود احترامی جب رب تعالیٰ کی بارگاہ میں ہونا قرار پاتی ہے تو انسان متقی اور پرہیزگار بن جاتا ہے اور انسانوں کی نسبت ہونا قرار پاتی ہے تو اخلاق حسنہ اور شگفتہ بیانی کی صورت میں مترشح ہوتی ہے۔ بہرحال یہ انسانی شخصیت کا ایک جوہر ہے۔
جہاں تک شعور اور خودی کی تشکیل کی بات ہے، یہ جزواس میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ حدود قیود میں پروان چڑھتا رہے تو باقی اجزاء پر حاوی ہو کے سب میں احساسِ بزرگی پیدا کرتا ہے جسکا نتیجہ کئی ارتقائی مراحل سے گزرکر تشکیل خودی کی صورت میں مرتب ہوتا ہے۔ یہی کلید ہے اقبالؒ کے فلسفہ خودی کی۔
برگزیدگی کے جزو پر نسیان و سرکشی دونوں اثر اندازہوتے ہیں اور بسا اوقات نتیجہ تباہ کن نکلتا ہے۔ برگزیدگی کے جزوپر نسیان مثبت جانب یہ عمل کرتا ہے کہ انسان اپنا احترام جائز حدود میں کرانا چاہتا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر رد عمل بھی ظاہر کرتا ہے جبکہ نسیان کا منفی جانب عمل یہ ہے کہ فرد کا احترام ذات جاتا رہتا ہے اور وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتا کہ اس کی عزت کی جارہی ہے یا نہیں۔ ایسے انسان کی بے عزتی کرنے سے اس کی طرف سے کوئی بڑا رد عمل ظاہر نہیں ہوتا البتہ معمولی خفگی کا اظہار ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں بنیادی تبدیلی محرک سرکشی لاتا ہے۔ جزوبرگزیدگی پر یہ مثبت جانب یہ عمل کرتا ہے کہ انسان انتہائی درجے کا خودپسند،خود پرست، خود سراور متکبربن جاتا ہے،خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے اور باقی سب کو اپنی نسبت حقیر اور کم تر۔
حضورنبی اکرمﷺ نے فرمایاکہ کسی کے بدبخت ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ دوسروں کو خود سے کم ترسمجھے۔ خود میں اس صفت کو تصور کرے جو ذات باری تعالیٰ کے سوا کسی کو زیبانہیں،یعنی تکبر۔ یہ محرک جب منفی سمت میں اثر انداز ہوتا ہے تو انسان کو ذلیل و رسوا کرا دیتا ہے۔مگر اس ذلت کے باوجود اسے احساس ِذلت ہی نہیں ہوتا۔ اس کی ذات سے خود احترامی کا مادہ گو یا معدوم ہوجاتا ہے۔ وہ خود کو گھٹیا حقیر اور ہرایک سے کم تر سمجھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے مقدر میں یہ ذلت اور پستی لکھی گئی ہے جو کبھی کسی طور نہیں ٹل سکتی۔ لہٰذا عقل مندی اس حالت سے سمجھوتہ کرنے میں ہے۔ تاریخ میں ایسی نفسیات کا جابجا اظہار ہوتا رہا۔ اس صورت کا مہذب ترین اظہار تاریخ اسلامی میں ملا متیہ فرقہ کی صورت میں بھی ہوا۔ ان کا مطمع نظر یہ تھا کہ ایسے اعمال و حرکات کی جائیں جس سے لوگ آپ کو گھٹیا اور گنہگار تصور کریں۔ یہ گویا فکری و نظری اشتباہ تھا۔ ہمارے زیر بحث عملی حیات ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کے ہاتھوں اپنی توہین کرانے میں زرا بھی عار محسوس نہیں کرتے۔
یہ شعوری حالت اسلام جیسے دین کے پیروکار کے دامن پر دھبہ ہے۔ جو مذہب انسان کی اتنی تکریم کرتا ہے کہ باجماعت نماز کو پانے کے لئے دوڑنے کی اجازت نہیں دیتا کہ اس سے شخصیت مجروح ہونے کا امکان ہے تو ایسا مذہب ایسی شعوری کیفیت کو کیسے گواراکر سکتا ہے ۔ اسی فکر کا اقبالؒ نے حضور الہٰی میں شکوہ کیا۔
لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو نے جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!
٭شعور کا اگلا زیر بحث جزو خودی (انا) ہے۔
اس سے متعلق ایک وضاحت درکار ہے کہ اس ”خودی“ سے علامہ کا معروف فلسفہ خودی مراد نہ لے لیا جائے مگر یہ انا(Ego)کے معنیٰ میں ایک ابتدائی صورت ہے جو شعور کی کلیت میں بطور جزو کار فرما ہوتی ہے۔ جہاں تک علامہؒ کے فلسفہ خودی کا تعلق ہے ،و ہی تو اصلاً زیر بحث ہے۔ شعور ِانسانی، جس کے اجزاء پرہم بحث کر رہے ہیں ،یہ شعور بحیثیت کل کئی تدریجی مراحل سے گزر کر شعورکی جس آخری اور کامل ترین شکل میں متشکل ہوگا وہی ماحصل علامہؒ کی خودی ہے۔ لہٰذا ان اجزاء کو شعور ِانسانی کے تشکیلی اجزاء بھی کہہ سکتے ہیں اور ”خودی کے تشکیلی اجزاء“بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ دراصل ایک ہی حقیقت کے دورُخ ہیں، لہٰذا اس فکری التباس سے بچنے کے لئے گفتگو میں لفظ ”انا“ ہی استعمال کیا جائے گا۔
بنظر غائر دیکھا جائے تو”انا“ میں انفرادیت، خود انحصاری اور برگزیدگی کا مفہوم پہلے سے ہی داخل معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب نہیں ہے کہ یہ ”انا“ کئی ذیلی اجزاء سے تشکیل پاتی ہے ،بلکہ یہ جزوواحد ہے جو باقی اجزاء کی طرح اپنی الگ کثیرالجہاتی موثریت رکھتا ہے۔ اس حد تک تو اس کی منفرد حقیقت کا بیان ممکن ہے مگر جب اس پر نسیان و سرکشی عمل کریں گے تو اس سے واقع ہونے والی نفسیاتی کیفیات کو انفرادیت سے انہی دو اجزاء سے مرتب ہونے والی کیفیات، خود انحصاری پر انہی کے مرتب ہونے سے جنم لینے والی کیفیات اور برگزیدگی پر انہی دو کے اثر انداز ہونے سے مرتب ہونے والی کیفیات کے درمیان کماحقہ امتیاز ایسی چیز ہے جو اصلاً بیان سے باہر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے درمیان کوئی حقیقی امتیاز ہی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ امتیاز اتنا عمیق، دقیق اور گہرائی والا ہے کہ اس کے اور مذکورہ اجزاء کے نتائج کے درمیان فرق سرحد تفہیم میں تو آتا ہے مگر قید بیان سے باہر ہے۔”انا“ پر نسیان اور سرکشی سے مرتب ہونے والے اثرات عوام کے نزدیک بعض اوقات انفرادیت ،خود انحصاری اور برگزیدیت پر مرتب ہونے والے اثرات سے زیادہ مختلف نہیں۔ لہٰذا انہی کے اثرات کو قیاس کرکے”انا“ کے اثرات سمجھے جا سکتے ہیں۔
٭جبروقدر کا تصور جو علامہ اقبالؒ نے جزوِ شعور کے طور پر بیان کیا ہے، اس سے ہمیں اتفاق نہیں۔ شعور کی ماہیت پر غور کیا جائے اور طویل و گہراغور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ جبروقدر کا تصور جزوشور نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ حضرت علامہؒ نے اجزائے شعور کے استنباط و استخراج کے لئے جن آیات کا سہارا لیا ہے ان میں سے کسی آیت سے جبروقد مستنبط کیا ہے یہ واضح نہیں۔ اگر اس کو جزو شعور مان لیا جائے تو دیگر اجزاء کی آزاد فعالیت بڑی حد تک متاثر ہوگی اور شعور اس معیار پر پورا نہیں اتر سکے گا کہ اس کے حامل انسان کو کاملاً بااختیار تصور کرکے اختیار کے سوئے استعمال کے نتیجہ میں اس کو جہنم رسید کیا جائے۔ماضی میں اسی فکر نے جبریہ اور قدریہ کو جنم دیا تھا۔ ہمارے نزدیک شعور جب تشکیل پاجاتا ہے تب اس پر تقدیر کو ایک اٹل فیصلہ کے طور پر مسلط کیا گیا۔ یہی وجہ ہےکہ اکثر اہل عقل اور مستشرقین اسلام کے جتنے مسلمات کوبھی تسلیم کریں، تقدیر کو نہیں جانتے۔ اس کی وجہ تقدیر کی حقیقت اور عقل و شعور کی ماہیت و مزاج میں بُعد ہے۔
اس کا اثبا ت خود علامہ کے اشعار سے بھی ہوتا ہے۔تقدیر کو جزو شعور نہ ماننے کے حوالے سے علامہ کے بہت سارے اشعار سے روشنی ملتی ہے۔ تقدیر پر علامہ کے تمام اشعار کا احاطہ کر لیں۔آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس بابت علامہ کا اصل نظریہ کیا تھا۔ ہم مثال کے طور پر ایک شعر پیش کر دیتے ہیں جو ضرب کلیم میں ”تقدیر“ ہی کے عنوان کے تحت موجود ہے
نااہل کو حاصل ہے کبھی قوت و جبروت ہے خوارزمانے میں کبھی جوہرذاتی
شاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میں تقدیر نہیں تابع منطق نہیں آتی
شعور کا کل عمل منطق ہے۔ یہاں منطق سے مراد فنی علم منطق نہیں بلکہ ہر وہ عمل اور کام ہے جو سادہ طریقے سے عقل و فہم میں آجائے۔ اقبالؒ کا کہنا ہے کہ تقدیر منطق کی نصِ فکری کے تابع نہیں، بلکہ ایک الگ حقیقت ہے۔ اگر تابع بھی نہیں اور حقیقت بھی الگ ہے تو جزوہونا بھی محال ہوا۔
٭شعور کا اگلا جزو" حیات بعد الموت "ہے۔
یہ تصور شعور کو دائمیت ، استمرار، مداومت، ہمیشگی اور عدم اختتام جیسے داعیات سے جلا بخشتا ہے۔ شعور کا یہ جزو اعلان ہے کہ حقیقتِ انسان فانی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ درست راستے پر چلے۔
علامہؒ نے جب حیات بعد الموت کے تصور پر خامہ فرسائی کی تو ابتدائی طور پر تو تعجب کا اظہار کیا اور بعدازاں مسلم فلاسفہ کی طرف سے حیات بعد الموت کے اثبات میں مابعدالطبیعی دلائل دینے پر شدید تنقید کی۔ اس تنقید کا خاص طور پر علامہ ابن رشد ؒنشانہ بنے۔ تعجب اس بات پر کہ یہ جدید دنیا جو ہر لمحہ آگے بڑھنے کی دعویدارہے اور قدیم ماورائی اور غیر مادی تصورات کو دقیانوسی سمجھنے میں پیش پیش ہے۔ حیات بعد الموت پیچیدہ ترین ماورائی تصورات میں سے ایک قدیم ترین اسلامی تصور ہے۔ جو حضرت آدمؑ سے لے کر نزول قرآن تک ہر شریعت میں لازمی عقیدہ کے طور پر کارفرمارہا۔ اس قاعدہ کے تحت تو مغربی دنیا اور مغرب سے متاثر افراد کو اس تصور کی طرف توجہ نہ دینی چاہیے تھی مگر بقول حضرت علامہؒ :
"عصر حاضر کو اس مسئلے سے جو گہرا شغف ہے اس کی مثال کسی دوسرےزمانے سےشاید ہی ملے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مادیت حاضرہ کی فتوحات کے باوجود اس موضوع میں تصنیف پر تصنیف شائع ہو رہی ہے۔"
دوسرا پہلو تنقید کا ہے۔ علامہ کی تنقید کی وجہ صاف ہے کہ اس مسئلہ کے ثبوت کے لئے مخاطب جدید مغربی ذہن ہے نہ کہ دینی و مذہبی طبقات جن کا ماورائی تصورات پر پختہ یقین ہے۔ خلط مبحث یوں کیا گیا کہ جو پہلے سے اس مسئلہ کے قائلین ہیں اور ماوراء الطبیعات پر گہرایقین رکھتے ہیں ،وہ تو اصلاً خارج از بحث ہونے چاہیے تھے اور مطمعء نظر ان کو قائل کرنا ہونا چاہیے تھا جو اس تصور کے منکرین ہیں اور وہ ملحد اور غیر مذہبی طبقات ہیں جو ماوراءالطبیعات کے اصلاً منکر ہیں۔ لہٰذا ان کے لئے یہ زیادہ مناسب ہوتا کہ طبیعی بنیادوں پر اس ماوراء الطبیعی تصور کو قائم کیا جاتا،تاکہ جن کی ضرورت تھی ان حجت قائم ہوتی۔مگر ابن رشد جیسا ذہین آدمی بھی اس مسئلہ کے ثبوت میں ماورائی دلائل پر اکتفا کر گیا،یہ ہے علامہ کی تنقید کی وجہ۔
دلائل کی ماہیت پر عمومی تنقید کے بعد علامہؒ ان دلائل کی نوعیت اور ان کے داخلی اجزاء پر بھی بات کرتے ہیں۔ علامہ فرماتے ہیں:
”حیات بعد الموت کے اثبات میں عام طور پر پیش کئے جانے والے دلائل کی نوعیت بہ حیثیت ِمجموعی اخلاقی ہے۔( علامہؒ کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ علامہؒ کے نزدیک جدید دور میں اس قدیم مسئلہ کی طرف ایک نئے انداز سے توجہ دی گئی ہے اور وہ یہ کہ) یہ بات ایک شعوری کلیہ (اصول) ہے کہ عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کا ایک نہ ایک دن پورا ہونا بہرحال لازم ہے۔ عقل کو اس بات سے اطمینان نہیں ملتا کہ ایک شخص مسلسل نیکیاں کرے، محنت کرے اور وہ بدبخت اور تنگ ٹھہرے۔ یہ حالت عارضی اور ابتدائی طور پر تو ہو سکتی ہے لیکن اس پر ہمیشگی علم منطق اور عقلیات کی روح سے زبردست متصادم ہے۔ دوسری طرف معاشرتی حقیقت یہ ہے کہ ہم بہت سارے لوگوں کو ساری عمر محنت کرتے اور صالحات کا پابند دیکھتے ہیں، اس کے باوجود وہ نہ رائے عامہ میں صالح ٹھہرتےہیں اور نہ معاشی حالت بہتر ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی موت اگر حقیقی معنیٰ میں موت تصور کر لی جائے تو پھر عدل اور انصاف کے قیام اور مؤثریت کا عالمگیر اصول زیرزمین دفن ہو جاتا ہے۔پس ان طبقات کو ان کی محنتوں اور صالحات کا حقیقی اجر،جو کہ حیات ظاہری میں نہ مل کر سکا، دینے کے لئے ایک اور عالم فرض کیا جائے گا جس میں عمل کرنے کی گنجائش تو نہ ہو مگر اس کو اعمال سابقہ کے نتائج مرتب کرنے کا دور کہا جائے۔ یوں حیات بعد الموت کا اثبات بطور جزوئے حیات و تسلسلِ حیات لازمی ٹھہرتا ہے“۔
حضرت علامہ کے مذکورہ تصور کے پیچھے غالباً احادیث کا وہ ذخیرہ ہو گا جو رزق حلال عین عبادت اور کسب معاش کے فضائل وغیرہ کے واضح بیانات پر مشتمل ہے، اگرچہ علامہ ان کا ذکر نہیں کرتے۔ مظلوم کے بدلے اور اعمال کی جزاو سزا کے مذہبی تصورات کے نتائج کے لئے حیات بعد الموت لازمی ہے۔
اس کے بعد علامہ نے حیات بعد الموت کے اثبات میں نطشے کے عقیدہ رجعت ابدی کو ایک زبردست دلیل کے طور پر پیش کیا۔ ساتھ ہی اسی زمانے میں" ہربرٹ "اور "اسپنسر "کا نظریہ پیش کیا۔ علامہ کے نزدیک ان دو عظیم دماغوں میں حیات بعد الموت کا تصور آنا اس عقیدہ کی اندرونی قوت ہے نہ کہ نظریہ کی منطقی صحت۔ علامہ کا کہنا ہے کہ ایسے تصورات سے متعلق جو نظریات قائم کئے جاتے ہیں یہ فیضان باطن کی بنا پر ہیں، مابعدالطبیعی غوروفکر کے زورپر نہیں۔ بعینہ یہی بات حضرت شاہ ولی اللہؒ نے فرمائی ہے کہ ہر نئے تصور یا کسی بھی قدیمی مگر حقیقی تصور کا اذھان میں اجراء ، ان ارواح یا اذھان پر ملااعلیٰ کا فیضان ہے، محض غوروفکر کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غوروفکر کی صلاحیت از خود ایک فیضان ہے جو خاص اذھان پران میں موجود بالقوہ استعدادوں کو بالفعل لانے کے لئے کیا جاتا ہے۔
اس سارے تصور کو قائم کرکے علامہؒ قرآن مجید کی آیات بطور دلیل لاتے ہیں۔
حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِoلَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ کَلَّاط اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَ قَآئِلُہَاط وَمِنْ وَّرَآئِہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یََوْمِ یُبْعَثُوْنَo
”یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی (تو) وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے۔تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ ہر گز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطورِ حسرت) کہہ رہا ہوگا، اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے“
ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَo نَحْنُ قَـدَّرْنَـا بَـیْـنَـکُمُ الْمَـوْتَ o
” تو کیا اس (سے انسان) کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا فرمانے والے ہیں؟ ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرّر فرمایا ہے “
وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰـہُ طٰٓـئِـرَھٗ فِیْ عُنُقِہٖط وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ کِتٰباً یَّلْقٰـہُ مَنْشُوْرًاo اِقْرَاْ کِتٰـبَکَط کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًاo
” اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کا نوشتہ اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے، اور ہم اس کے لیے قیامت کے دن (یہ) نامۂِ اعمال نکالیں گے جسے وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا۔ (اس سے کہا جائے گا:) اپنی کتابِ (اَعمال) پڑھ لے، آج تو اپنا حساب جانچنے کے لیے خود ہی کافی ہے۔“
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًیo اَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰیo ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰیo فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰیo اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰیo
” کیا اِنسان یہ خیال کرتا ہے کہ اُسے بے کار (بغیر حساب و کتاب کے) چھوڑ دیا جائے گا۔ کیا وہ (اپنی اِبتداء میں) منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (عورت کے رحم میں) ٹپکا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ (رحم میں جال کی طرح جما ہوا) ایک معلق وجود بن گیا، پھر اُس نے (تمام جسمانی اَعضاء کی اِبتدائی شکل کو اس وجود میں) پیدا فرمایا، پھر اس نے (انہیں) درست کیا۔ پھر یہ کہ اس نے اسی نطفہ ہی کے ذریعہ دو قسمیں بنائیں: مرد اور عورت۔ تو کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو پھر سے زندہ کر دے۔“
اب حیات بعد الموت کے شعور کے جزو ہونے کی حیثیت سے اس پر نسیان اور سرکشی کے عمل کا جائزہ لیتے ہیں۔ نسیان اس داعیہ پر مثبت اور منفی ہر دو طرف کام کرتا ہے۔ مثبت جانب یہ اس جزو کو اجزائے شعور میں مغلوب نہیں ہونے دیتا اور منفی صورت میں شعور میں اس کا دھیان صرف خاص واقعات کے رونما ہونے پر ہی آتا ہے اور کچھ دیر بعد محو ہو جاتا ہے ،مثلاً کسی کو اپنے سامنے مرتے اور دفن ہوتے دیکھنا۔ سرکشی اس جزوپر زیادہ موثر عمل کرتی ہے۔ سرکش طبیعتیں اس تصور کو ہمہ وقت جملہ اجزاء پر غالب کئے رکھتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر انسان صالح رہتا ہے جبکہ منفی جانب سرکشی انسان کو غافل، ہٹ دھرم اور معصیات پر بار بار اصرار کرنے والا بنا دیتی ہے اور ساتھ ہی صالحیت کا مادہ دبادیتی ہے۔ یوں اس جزو سے کئی شخصیات کے طبائع اور مزاج ترکیب پاتے ہیں۔
٭گلا جزوِ شعور" آزاد اور ذمہ دار شخصیت "ہے ۔
یہ شعور کی فعالیت میں نسیان و سرکشی کے مثبت اور منفی عمل کی صورت میں انفرادیت اور خودانحصاری والا عمل ظاہر کرتے ہیں۔
اجزائے شعور میں سے آخری دو اجزاء اپنی فعالیت کی وجہ سے اہم ترین ہیں۔ عام طور پر پہلے آٹھ اجزاء اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہیں اور بہت کم ایسی کیفیات ہوتی ہیں کہ یہ باہم ایک د وسرے کے حدود میں داخل ہوں اور دوسرے کے وظیفہ کومتاثر کریں۔ ایسا اکثرہیجانی کیفیات میں ہوا کرتا ہے جو عارضی ہوتی ہیں اس وجہ سے اس کے اثرات بھی عارضی ہوتے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ غصہ ہے جس میں ایک حد کے بعد شعور کا وظیفہ من حیث الکل معطل ہوجاتا ہے اور ہیجان شعور کی جگہ فیصلہ ساز قوت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید غصے میں کہے گئے بعض الفاظ اور فیصلہ جات شعور کی کیفیت واپس فعال ہونے پر باعث شرمندگی ہوتے ہیں۔
شعور کی ساری ورکنگ میں یہ دو اجزاء (نسیان اور سرکشی) ایسے ہیں جو دیگر اجزاء کے دائرہ ہائے کار میں بار بار اور مختلف انداز و کیفیات سے مداخلت کرتے ہیں۔ ان دو اجزاء کا اپنا کوئی دائرہ کار نہیں ہوتا جس میں یہ عمل کریں بلکہ ان کی وضع ہی اس طور پر ہوئی ہوتی ہے کہ یہ دیگر اجزاء کی حقیقی فعالیت کو متاثر کریں۔ ہر جزوپر ان دواجزاء کی مثبت اور منفی اثرات کو ہم نے تفصیل سے بیان کردیا ہے۔
جب ہم قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ایک عجیب حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ قرآن زیر بحث تو تمام اجزائے شعور کو لاتا ہے مگر سارا زور ان دو اجزاء کے بیان اور ان کے ضبط پر رکھتا ہے۔ بیان سے مقصود ان اجزاء کی ماہیت اور نوعیت کی کامل معرفت ہے اور ضبط و کنٹرول کے لئے ہے۔ المختصر، قرآن کا کہنا ہے کہ پہلے ان دو اجزاء کی حقیقت اور ماہیت میں پوشیدہ شرکو جانو اور پھر اس کو قیود اور حدود میں رکھنے کا لائحہ عمل اور ضابطہ اپناؤ۔
قرآن مجید نے نسیان کو اور اس کے عمل کو درج ذیل آیات میں کئی انداز میں بیان کیا۔
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ
(اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ کو خود (ایسا) پڑھائیں گے کہ آپ (کبھی) نہیں بھولیں گے،
قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَلَا تُرْہِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًاo
” موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: آپ میری بھول پر میری گرفت نہ کریں اور میرے (اس) معاملہ میں مجھے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیں۔“
وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اﷲَ فَاَنْسٰہُمْ اَنْفُسَہُمْطاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَo
” اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھلا بیٹھے پھر اللہ نے اُن کی جانوں کو ہی اُن سے بھلا دیا (کہ وہ اپنی جانوں کے لیے ہی کچھ بھلائی آگے بھیج دیتے)، وہی لوگ نافرمان ہیں۔“
قَالَ اَرَئَ یْتَ اِذْ اَوَیْنَآ اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَز وَمَآ اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗج وَاتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِق عَجَبًاo
” (خادم نے) کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا تھا، اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں، اور اس (مچھلی) نے تو (زندہ ہوکر) دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا (اور وہ غائب ہوگئی تھی)۔“
وَلَقَدْ عَہِدْنَـآ اِلٰٓی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًاo
” اور درحقیقت ہم نے اس سے (بہت) پہلے آدم (e) کو تاکیدی حکم فرمایا تھا سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں بالکل (نافرمانی کا کوئی) ارادہ نہیں پایا (یہ محض ایک بھول تھی)۔“
اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰہُمْ ذِکْرَ اﷲِط اُولٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِط اَلَآ اِنَّ حِزَبَ الشَّیْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَo
” اُن پر شیطان نے غلبہ پالیا ہے سو اُس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے، یہی لوگ شیطان کا لشکر ہیں۔ جان لو کہ بے شک شیطانی گروہ کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔“
ہم نے پہلے آٹھ اجزاء میں نسیان کی موثریت کو جتنے پہلوؤں سے بیان کیا ہے مذکورہ آیات پر غور کیا جائے تو ہر آیت میں ایک یا ایک سے زائد اثر کو بیان کیا گیا ہے۔ گویا نسیان کی دیگر اجزاء شعور پر اثر انداز ہونے کے فلسفہ پر قرآن نے مہر تصدیق ثبت کردی۔ ان آیات میں بعض میں نسیان کے وہ اضافی اثرات بھی بیان ہوئے ہیں جو اوپر بیان نہیں کئے گئے۔
نسیان کی اس اہمیت اور موثریت کی بناء پر قرآن مجید نے جہاں جابجا اس کے اثرات کو بیان کیا وہیں اس کے علاج کو بھی کئی مقامات پر بیان کیا۔ قرآن کا پہلے اتنی تفصیل سے نسیان کو زیر بحث لانا اور پھر تفصیل سے اس کے علاج پر بات کرنا اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن انسان کے جس پہلو کو مخاطب کرتا اور حکم لگاتا ہے وہ جہت شعور ہی ہے اور نسیان شعور کو اس کی کامل فعالیت سے گریز پر آمادہ کرتا ہے۔ جس سے پورا شعوری عمل متاثر ہوتا ہے اور نتیجہ کے طور پر قرآنی حکم کی معنویت اور قبولیت کماحقہ نہیں رہتی۔ نسیان پر کنٹرول کرنے کا قرآنی لائحہ عمل یہ ہے۔
قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِہِمَا قَصَصًاo
” موسیٰ (علیہ السلا) نے کہا: یہی وہ (مقام) ہے ہم جسے تلاش کر رہے تھے، پس دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر (وہی راستہ) تلاش کرتے ہوئے (اسی مقام پر) واپس پلٹ آئے۔“
یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اﷲَ ذِکْرًا کَثِیْرًاo وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًاo
” اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔ اور صبح و شام اسکی تسبیح کیا کرو۔“
مذکورہ آیات میں سے ہر آیت میں نسیان کے مختلف اثر کا علاج تجویز کیا گیا ہے۔ صاحب فہم شخص جب نسیان کی نوعیت اور مذکورہ علاج پر ذرا غور کرتا ہے تو اس پر واضح ہو جاتا ہے کہ کس نسیان کا کونساعلاج ہے۔
نسیان کے حوالے سے قرآن مجید کا ایک اور انداز بھی ایک جو اپنی نوعیت میں پہلے انداز کی نسبت زیادہ موضوع پر مرتکز (Focus)ہے۔ عربی کا معروف معقولہ ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا۔ قرآن نے اسی اصول کو اپنایا اور نسیان کی ضد تذکر اور ذکر کو قرار دیا۔ نسیان کے عمومی اور خصوصی اثرات سے بچنے کے لئے ایک مستقل وظیفہ کے طور پر ذکر کا حکم دیا۔ ایسی تمام آیات اکٹھی کی جائیں تو فہرست آیات بہت طویل ہو جائے گی ۔ اس ضمن میں چند خاص آیات یہ ہیں۔
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآءط قَلِیْـلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَo
(اے لوگو!) تم اس (قرآن) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور اس کے غیروں میں سے (باطل حاکموں اور) دوستوں کے پیچھے مت چلو، تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔“
ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنْذَرُوْا بِہٖ وَلِیَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ وَّلِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِo
” یہ (قرآن) لوگوں کے لیے کاملاً پیغام کا پہنچا دینا ہے، تاکہ انہیں اس کے ذریعہ ڈرایا جائے اور یہ کہ وہ خوب جان لیں کہ بس وہی (اللہ) معبود یکتا ہے اور یہ کہ دانشمند لوگ نصیحت حاصل کریں۔“
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَo
” بس ہم نے آپ ہی کی زبان میں اس (قرآن) کو آسان کر دیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“
وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَo
”اور آپ نصیحت کرتے رہیں کہ بے شک نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔“
فَذَکِّرْقف اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌo
”پس آپ نصیحت فرماتے رہئے، آپ تو نصیحت ہی فرمانے والے ہیں“
ان آیات اور چند دیگر آیات میں چند اصطلاحات بار بار آئی ہیں مثلاً قَلِیْـلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ،لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ، ومایذکر اُولُوا الْاَلْبَابِ اور اس جیسی کئی اصطلاحات نسیان کے شعوری ، فکری و نظری نقصان کا منہ بولتا ثبوت ہیں کیونکہ ان کی وضع ہی ردِ نسیان کے لئے کی گئی ہے۔
٭اجزائے شعور میں آخری اور اہم ترین جزو "سرکشی" ہے۔
اس کی تخلیق میں شر اور عجلت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ محض شر اتنا نقصان نہیں دے سکتا اگر شعوری کیفیت بحال ہو تو، مگر اس میں عجلت کا عنصر داخل کرکے شر کی فعالیت کو کئی گنابڑھا دیا گیا ہے۔ محرک ِسرکشی کااظہار دوسروں کے ساتھ انسان کے ظالمانہ رویے اور پس پشت دوسروں کو نقصان پہنچانے جیسے مقاصد سے ہوتا ہے۔ شعور کی ساری حرکت پر اس جزو کا سب سے گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ جزو دیگراجزاء کے دائر ہائے کار میں بار بار اور مختلف انداز سے دخل اندازی کرتا ہے۔ جس سے شعوری کیفیت اپنی حقیقی معنویت کھو کر عارضی اور ہیجانی تصور کو کُلی اور مطلق سمجھنے لگتی ہے۔ اس کے اندر ایک اور ایسی خصوصیت ہے جو دوسرے کسی جزو میں نہیں۔ وہ خصوصیت یہ کہ اس کو جتنا حرکت میں لایا جائے یہ قوی سے قوی تر ہوتی جاتی ہے۔ اس کو بر وقت کنٹرول نہ کرنا دراصل سارے شعور کی تباہی کے مترادف ہے۔امام غزالی ؒ ضبط نفس کی بحث میں ایک تمثیل پیش کرتے ہیں جس کو یہاں بیان کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ خواہش نفس ایک پودا ہے اور اس کی خواہش کو پوری کرکے تسکین حاصل کرنا اس پودے کو پانی دینا اور گوڈی آنا ہے۔ جبکہ ضبط نفس یہ ہے کہ اس پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ وقت گزرتا جاتا ہے اور انسان ہر روز سوچتا ہے کہ بس اس پودے کو اکھاڑ دینا ہے مگر ہر بار عمل اس کو پانی دینے اور گوڈی کرنے کا کرتا ہے۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اور اس کے اعضاء کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور دوسری طرف پودا مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور تناور درخت بن چکا ہوتا ہے ۔ اب اس کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے پیوست ہیں۔ اب زندگی میں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ اگر انسان واقعی اس پودے کواکھاڑنا چاہیے تو نہیں اکھاڑ سکتا کیونکہ جسم ،فکر،ذہن، شعور اور خیالات، ہر جگہ اس کی جڑیں پیوست ہو چکی ہیں اور انسان کے قویٰ کمزور ہو چکے ہیں ۔بالکل یہی معاملہ محرک سرکشی کا ہے۔ خودی کی تباہی میں یہ بڑھ بڑھ کر اپنی خدمات دیتا ہے۔ اسکی اسی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید نے اس کو خاص موضوع بنایا ہے۔
فَـاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَـاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِص وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍo
” پھر شیطان نے انہیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انہیں اس (راحت کے) مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا، اور (بالآخر) ہم نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جائو، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب تمہارے لیے زمین میں ہی معیّنہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدّر کر دیا گیا ہے۔“
قَالَ اہْبِطَا مِنْہَا جَمِیْعًام بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًیلا فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَـلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقٰیo
” ارشاد ہوا: تم یہاں سے سب کے سب اتر جاؤ، تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے، پھر جب میری جانب سے تمہارے پاس کوئی ہدایت (وحی) آ جائے، سو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) بدنصیب ہوگا۔“
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃًط قَالُوٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَـآئَج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَط قَالَ اِنِّیٓ اَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَo
” اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالاں کہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“
وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّم اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِط قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَط قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اﷲُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَo لَئِنْم بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ ج اِنِّیْٓ اَخَافُ اﷲَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَo اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓاَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِج وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَo فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo
” (اے نبی مکرم!) آپ ان لوگوں کو آدم (e) کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کی خبر سنائیں جو بالکل سچی ہیَ جب دونوں نے (اﷲ کے حضور ایک ایک) قربانی پیش کی سو ان میں سے ایک (ہابیل) کی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) سے قبول نہ کی گئی تو اس (قابیل) نے (ہابیل سے حسداً و انتقاماً) کہا: میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا اس (ہابیل) نے (جواباً) کہا: بے شک اﷲ پرہیزگاروں سے ہی (نیاز) قبول فرماتا ہے۔ اگر تو اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے میری طرف بڑھائے گا (تو پھر بھی) میں اپنا ہاتھ تجھے قتل کرنے کے لیے تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا کیوں کہ میں اﷲ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میں چاہتا ہوں (کہ مجھ سے کوئی زیادتی نہ ہو اور) میرا گناہ ِ (قتل) اور تیرا اپنا (سابقہ) گناہ (جس کے باعث تیری قربانی نامنظور ہوئی سب) توہی حاصل کرلے پھر تو اہلِ جہنم میں سے ہو جائے گا اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔ پھر اس (قابیل) کے نفس نے اس کے لیے اپنے بھائی (ہابیل) کا قتل آسان (اور مرغوب) کر دکھایا۔ سو اس نے اس کو قتل کردیا۔ پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔“
قرآن مجید نے سرکشی کے جزو کو قابو اور حدودوقیود میں رکھنے کے لئے درج ذیل لائحہ عمل تجویز کیا ہے۔
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اﷲُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْاط اِنَّ اﷲَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَo وَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اﷲُ حَلٰــلًا طَیِّبًاص وَّاتَّقُوا اﷲَ الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَo
” اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں (اپنے اوپر) حرام مت ٹھہرائو اور نہ (ہی) حد سے بڑھو، بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اور جو حلال پاکیزہ رزق اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے کھایا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔“
وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآئِکُمْطo
” اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے با صلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو) “
وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃًط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo
” اور یہ (بھی) اس کی نشانیوںمیں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بے شک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔“
وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغْنِیَھُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖط
” اور ایسے لوگوںکو پاک دامنی اختیار کرنا چاہیے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے ۔“
وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّص وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّo
” اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دو پٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بنائو سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں۔“
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اﷲُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْاط اِنَّ اﷲَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَo
” اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں (اپنے اوپر) حرام مت ٹھہرائو اور نہ (ہی) حد سے بڑھو، بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“
فَاَمَّا مَنْ طَغٰیo وَاٰثَرَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَاo فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ہِیَ الْمََاْوٰیo وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰیo فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰیo
” پھر جس شخص نے سرکشی کی ہو گی۔اور دنیاوی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دی ہو گی تو بے شک دوزخ ہی (اُس کا) ٹھکانا ہوگا۔اور جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اُس نے (اپنے)نفس کو (بری) خواہشات و شہوات سے باز رکھا۔ تو بے شک جنت ہی (اُس کا) ٹھکانا ہوگا۔“
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالَانْعَامِ وَالْحَرْثِط ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَاﷲُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِo
” لوگوں کے لیے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان کیے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے۔“
وَمَا الْحَیٰـوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَعِبٌ وَّلَھْوٌط وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَo
” اور دنیوی زندگی (کی عیش و عشرت) کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں اور یقیناً آخرت کا گھر ہی ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم (یہ حقیقت) نہیں سمجھتے۔“
ان اصولوں اور ضوابط کے مطابق اگر محرک سرکشی کی مسلسل تربیت کی جائے تو یہ داعیہ بلاشبہ مغلوب ہوجاتا ہے۔ نسیان اور سرکشی کے اجزاء اور ان کے اثرات جب (مذکورہ مجوزہ قرآنی لائحہ عمل پر عمل کرنے کی صورت میں) مغلوب ہو جاتے ہیں تو نتیجتاً باقی آٹھ خوب پروان چڑھتے ہیں اور انہی سے شعور کا بڑا حصہ تشکیل پاتا ہے اور بہت سے شعوری عوامل انہی کے تحت پروان چڑھتے ہیں اور ایک ذمہ دار، خوددار، معتدل ، جوابدہ، امین اور جہد ِمسلسل کرنے والے شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ پھر انہی صفات کا غلبہ جب شعور پر ہوتا ہے تو اس کا پرتو شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔ شعور جب اس کامل سطح پر پہنچتا ہے تو ایک نہ قابل تجزی کل کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، یہی کل جب ایک قوت بن کر ابھرتا ہے تو جو چیز سامنے آتی ہے حضرت علامہ ؒ اقبال اسی کو ”خودی“سے تعبیر کرتے ہیں۔